Entire Balochistan ready to celebrate the independence day of the motherland on 11th August from British Imperialism

0
733
Balochistan
Balochistan

Quetta (Press Release) Free Balochistan Movement spokesman while issuing a statement to media said that August 11 is an important and blessed day in the history of Balochistan. On this day, the grandchildren of Baloch Gulzamin celebrated their historical identity and independence by overcoming the long slavery and occupation of British imperialism.

Our forefathers made great sacrifices for the attainment of the great goal of independence, inflicted heavy blows on the enemy occupying many places and martyred thousands while fighting to the last drop of their blood in defense of the Baloch homeland. ۔ Today, thanks to these Baloch martyrs, the Baloch have a place in the world.

The FBM said that the fearless, courageous and Baloch hero Nawab Mehrab Khan and his valiant comrades defied the British invasion of Baloch Gulzamin and became a plywood wall against the enemy on the battlefield. Were ordered Following in his footsteps, the Baloch zealous sons have continued the caravan of freedom.

Turning the pages of history, we know that in Kohistan Murree, Nawab Khairbakhsh Murree I (who was the grandfather of Nawab Murree) flatly refused to pull the British chariot, disobeyed the British ruler and made the Baloch nation proud. What was

The resistance of the Murree Baloch against the British occupation of Balochistan and the guerrilla war had forced the British army to chew iron. During this time many battles took place, including the Battle of the Dome, the Battle of Harappa and the Battle of Sarat-e-Off.

The strategy of the Baloch guerrillas against the British, the determined intentions eventually led the British rulers to think that they would never succeed in their policy of forcibly settling in Balochistan and seizing its shores and resources.

The spokesman said that the Punjabi rulers of Pakistan lie through their media that they had gained Pakistan by fighting the British or by making sacrifices. Such claims of theirs are nothing but nonsense, because in the subcontinent At a time when the people of India and Balochistan were resisting, on the other hand, the Punjabis were bent on weakening the Indian independence movement by enlisting in the British army and many Punjabis continued to be used as informers and assassins of the British army.

Pakistani Punjabis have never made any sacrifice. India and Balochistan had declared their independence when Britain was losing the subcontinent. Balochistan declared its independence on August 11, 1947, which was regularly broadcast on All India Radio and also in the American newspaper New York Times.

After the British left Balochistan, cunning, deceitful and riotous Punjabis like Pakistan planned to consume the resources of Balochistan and seize our geography because the Punjabis knew that after the British left, Pakistan had bad, naval And they would need Balochistan to reach the trade markets of Central Asia, the Middle East and Europe by air, so Muhammad Ali Jinnah, a British-raised agent, began to increase pressure on the then ruler of Balochistan, Khan of Kalat Mir Ahmad Yar Khan. So that through them the most important corridor of the region, Baloch ports and mineral rich Balochistan could be captured.

Historical documents testify that Jinnah sent messages to Khan Kalat through diplomatic channels asking why Balochistan should not be included in Pakistan.
Every such offer was rejected by Khan Kalat and the then Baloch leadership. Both Houses of Balochistan (Lower House and Upper House) unanimously rejected Pakistan’s offer to integrate Balochistan into Pakistan.

The Free Balochistan Movement said that the Pakistani army, on Jinnah’s orders, forcibly signed the annexation documents from Khan Kalat on March 27, 1948 and invaded the state of Kalat. Heavy artillery and tanks shelled the palace of Kalat, shelling the Balochistan flag on the Kalat Palace. The Punjabi Pakistani army, which pretended to be Islam and Muslimism, did not even spare the mosque there during the Kalat aggression. The marks of bullets and cannons on the mosque are still testifying to the Punjabi aggression.

The Free Balochistan Movement vehemently rejected the Pakistani statement, saying that the forcible annexation of Khan of Kalat Mir Ahmad Yar Khan to Pakistan had no place in the context of legal, sharia, national and international principles like torture of a person. The affidavit is taken on confession and no court in the world accepts this statement taken by force, then even on Khan Kalat the Pakistani army forced to join Pakistan by force, coercion, threat and force. Therefore, its legal status and status is not acceptable to the Baloch nation in any case.

We urge the United Nations to help Baloch people to get their due support on humanitarian ground.

The spokesman added that the international community needs to keep a close eye on the situation over the last seventy years as Punjabi Pakistan is a mercenary in the entire region.

***The above statement is a google translation of the original Urdu statement is below. Please get it clarified from the FBM if you have any queries. Translation can not be claimed as official communication and IBG NEWS does not take any authentication claim on the same.***

Original Urdu Press release from FBM:

کوئٹہ (پریس ریلیز ) فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے میڈیا کو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 11 اگست بلوچستان کی تاریخ میں ایک اہم اور مبارک دن ہے۔ اس دن بلوچ گلزمین کے سپوتوں نے برطانوی سامراج کی طویل غلامی اور قبضے سے چٹکارا پاتے ہوئے اپنی تاریخی شناخت اور آزاد حیثیت کو منوایا تھا۔
آزادی جیسے عظیم مقصد کے حصول کے پاداش میں ہمارے آبا و اجداد نے بیش بہا قربانیاں دیں، کئی جگہوں پر قابض دشمن پر کاری ضرب لگائے اور بلوچ وطن کی دفاع میں اپنے خون کے آخری قطرےتک لڑتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں جام شہادت نوش کی۔ آج انہی بلوچ شہدا کی مرہون منت ہے کہ بلوچ دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں۔
ایف بی ایم نے کہا کہ شہید نڈر، دلیر اور بلوچ ہیرو نواب مہراب خان اور ان کے جانباز ساتھیوں نے بلوچ گلزمین پر انگریزوں کی یلغار کو للکار کر میدان جنگ میں دشمن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن گئے اور جام شہادت نوش کی اور ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ ان کی تقلید کرتے ہوئے بلوچ غیور فرزندوں نے آزادی کے کارواں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھاہوا ہے۔
تاریخ کے پنوں کو پلٹ کر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کوہستان مری میں نواب خیربخش مری اوّل (جو نواب مری کے دادا تھے) نے انگریزوں کی بگھی کو کھینچنے سے صاف انکار کرتے ہوئے انگریز حکمران کی تابعداری نہ کرکے بلوچ قوم کا سرفخر سے بلند کیا تھا۔
مری بلوچوں کا انگریز کی بلوچستان پر قبضہ کے خلاف مزاحمت اور گوریلا جنگ نے برطانوی فوج کو لوہے کے چنے چبوانے پر مجبور کردیا تھا۔ اس دوران کئی معرکے ہوئے جن میں جنگ گنبد، جنگ ہڑپ اور جنگ ساڑت آف میں بلوچوں کی بہادری کی روشن مثالیں تاریخ کے سینے میں سنہرے حروف میں درج ہیں۔
انگریزوں کے خلاف بلوچ گوریلا جنگجووں کی حکمت عملی، مصمم ارادوں نے بالاخر انگریز حکمرانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ وہ بلوچستان میں جبری طور پر قیام کرنے اور یہاں کے ساحل و وسائل کو ہتھیانے کی پالیسی پر کھبی بھی کامیاب نہیں ہو پائینگے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے پنجابی حکمران اپنی میڈیا کے ذریعے جھوٹ بول کرکہتے ہیں کہ انہوں نے انگریزوں سے لڑ کر یا قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا تھا ان کے اس قسم کے دعوے لغو اور ڈکھوسلے کے علاوہ کچھ بھی نہیں، کیونکہ برصغیر میں اس وقت جب ہندوستان اور بلوچستان کے عوام مزاحمت کررہے تھے دوسری طرف پنجابی انگریز کی فوج میں بھرتی ہوکر ہندوستان کی تحریک آزادی کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے تھے اور بہت سے پنجابی انگریز فوج کی مخبری اور کرائے کے قاتل کے طور پر استعمال ہوتے رہے۔
پاکستانی پنجابیوں نے کبھی بھی کوئی قربانی نہیں دی۔ برطانیہ جب برصغیر سے شکست کھاکر جارہا تھا تو ہندوستان اور بلوچستان نے اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ بلوچستان نے 11 اگست 1947 کو اپنی آزادی کا اعلان کیا جو آل انڈیا ریڈیو پر باقاعدہ نشر ہوا اور امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں بھی شائع ہوا تھا۔
انگریزوں کے بلوچستان سے جانے کے بعد پاکستان جیسے مکار، دھوکے باز اور فسادی پنجابیوں نے بلوچستان کے وسائل کو ہڑپ کرنے اور ہماری جغرافیہ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا کیونکہ پنجابیوں کو علم ہوگیا تھا کہ انگریز کے جانے کے بعد پاکستان کے پاس بری، بحری اور فضائی راستوں سے سنٹرل ایشیا، مشرق وسطی اور یورپ کی تجارتی منڈیوں تک پہنچنے کے لیے انہیں بلوچستان کی ضرورت پڑے گی لہذا انگریزوں کے پالے ہوئے ایجنٹ محمد علی جناح نے اس وقت کے بلوچستان کے حکمران خان آف قلات میر احمد یارخان پر دباو بڑھانا شروع کردیا تھا تاکہ ان کے ذریعے خطے کا اہم ترین گزرگاہ بلوچ بندر گاہیں اور معدنی دولت سے مالامال بلوچستان پر قبضہ جمایا جاسکے۔
تاریخی دستاویزات اس بات کے گواہ ہیں کہ جناح نے سفارتی چینلز کے ذریعے خان قلات کو پیغامات بھیجے کہ کیوں نہ بلوچستان کو پاکستان میں شامل کیا جائے؟ ایسی ہر پیشکش کو خان قلات اور بلوچوں کے اس وقت کی قیادت نے ٹھکرا دیا تھا۔ بلوچستان کی دونوں ایوانوں (ایوان زیریں اور ایوان بالا) نے متفقہ طور پر بلوچستان کو پاکستان میں ضم کرنے کی پاکستانی پیشکش کو مسترد کردیا تھا۔
فری بلوچستان موومنٹ نے کہا کہ پاکستانی فوج نے جناح کے حکم پر خان قلات سے 27 مارچ 1948 کو  زبردستی الحاق کے دستاویزات پر دستخط کروائے اور ریاست قلات پر چڑھائی کی۔ قلات کے محل پر بھاری توپ خانوں، اور ٹینکوں کے ذریعے گولہ باری کی، قلات پیلس پر نصب  بلوچستان کے جھنڈے پر گولے برسائے۔ اسلام اور مسلمانیت کا ڈھونگ رچانے والے پنجابی پاکستانی فوج نے قلات جارحیت کے وقت وہاں موجود مسجد کو بھی نہیں بخشا، مسجد پر لگے گولوں اور توپوں کے نشانات آج بھی پنجابی غاصبانہ اقدامات کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیں۔
فری بلوچستان موومنٹ نے پاکستانی بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ خان آف قلات میر احمد یارخان کی پاکستان کے ساتھ جبری الحاق کی کوئی قانونی، شرعی، ملکی اور عالمی اصولوں کے پس منظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے جس طرح ایک شخص کو تشدد کرکے اقرار پر بیان حلفی لی جاتی ہے اور دنیا کی کوئی بھی عدالت جبر سے لیئے گئے اس بیان کو نہیں مانتی تو پھر خان قلات پر بھی پاکستانی فوج نے جبر، دھونس، دھمکی اور طاقت کے زور پر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے پر مجبور کیا تھا لہذا اس کی قانونی وقعت اور حیثیت بلوچ قوم کو کسی صورت بھی قبول نہیں ہے۔
ہم اقوام متحدہ پر زور دے کر کہتے ہیں کہ وہ بلوچستان پر پاکستانی جارحیت اور اس جبری قبضے کے بعد بلوچوں کی دفاعی جنگ کو کچلنے کے لیے طاقت کے بے دریغ استعمال، بلوچ قوم کی نسل کشی، جبری اغوا، بلوچ سرزمین کے ساحل و وسائل کو بے دردی سے لوٹ کر بلوچوں کو جان بوجھ کر معاشی بدحالی کا شکار بنانا، بلوچ شناخت کو مٹانے کے لیے ریاستی مشینری کا بے تہاشا استعمال، عالمی جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری کو گذشتہ ستر سالوں سے پیش آنے والے حالات پر باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ پنجابی پاکستان اس پورے خطے میں ایک کرائے کے قاتل کے طور پر کام کرتا آرہا ہے۔ انگریزوں کا ساتھ دے کر پنجابیوں نے ہندوستان کو مذہب کےنام پر تقسیم  کیا۔ پھر تاریخ کی بدترین دہشت گردی کے ذریعے تیس لاکھ بنگالیوں کی نسل کشی کی۔ بلوچ تحریک آزادی پر شب خون مارتے ہوئے 27 مارچ 1948 کو بلوچستان پر چڑھائی کی۔ اس قبضے کے خلاف خان آف قلات کے چھوٹے بھائی اور مکران کے اس وقت کے گورنر شہزادہ آغا عبدالکریم بلوچ نے اپنے نظریاتی کارواں کے ہمراہ آزادی کے علم کو بلند کرتے ہوئے وطن کا دفاع کیا تھا ۔
ایف بی ایم ترجمان نے کہا کہ بلوچستان پر جبری قبضہ کے حوالے سے اقوام متحدہ نے اپنے ہی چارٹر کی شقوں کو نافذ کرنے میں کوتاہی برتتے ہوئے سنگین غلطی کی۔ پاکستان سے آزادی کی بلوچ تحریک کو خطے کے ممالک نے نظر انداز کرتے ہوئے در اصل اپنے پاوں پر خود کلہاڑی ماری تھی۔ بلوچستان کی تحریک آزادی کو نظر انداز کرنے کے بھیانک نتائج آج سب کے سامنے پاکستان کا ایٹم بم، جہادیوں کی فیکٹریاں، مذہبی جنونیت، کشمیر میں پاکستانی فساد، افغانستان میں سویت یونین کی شکست، امریکہ کی افغانستان میں مشکلات، بنگلہ دیش میں تیس لاکھ بنگالی مسلمانوں کا قتل عام، ایران کا پاکستان سے ممکنہ ایٹم بم حاصل کرنے کی منصوبہ بندی، چائنا، ترکی کی پاکستان سے قربت، ہندوستان کے ساتھ چین کی لداخ میں کشیدگی، پاکستان کی غزوہ ہند پروجیکٹ، چین کا ساوتھ چائنا سی کے ساتھ جنگی محاذ اور کئی مسائل خطے میں پاکستان کی ولادت کے بعد کے تباہ کن نتائج ہیں۔
بیان کے آخر میں فری بلوچستان موومنٹ کے ترجمان نے کہا کہ اب بھی وقت ہے دنیا چین کی خطے میں معاشی، فوجی، جغرافیائی، سیاسی بالادستی کے خلاف بلوچ قوم کی آزاد حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کو مذہبی جنونیت اور چینی اجارہ داری سے بچائے۔ بلوچستان اس خطے کا امیر ترین اور پرامن ملک ہوگا جو کہ اس پورے خطے میں امن رواداری، بھائی چارے اور معاشی خوشحالی کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔
بلوچ قوم کے کسی بھی ملک و قوم کے خلاف کوئی مخفی ومنفی عزائم نہیں رہے ، آئندہ بھی ہم اپنے پڑوسیوں اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر پاکستان، ایران اور چین کے ناپاک عزائم کے خلاف کام کرنے کے خواہشمند ہیں کیونکہ بلوچ قوم اس بات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں کہ جب بھی بلوچستان کے تاریخی دوست ہمسایہ ممالک میں پاکستان اور ایران بدامنی پھیلاتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر بلوچستان میں بھی یقینی طور پڑتا ہے لہٰذا بلوچستان اس پالیسی پر گامزن ہے کہ پاکستان جیسے مصنوعی ریاست اور ایرانی رجعت پسند ملاؤں سے آزادی ہی اس خطے کی پائیدار امن،معاشی ترقی اور خوشحالی کا نوید ثابت ہوگا۔